Tuesday, December 28, 2010

Never Judge someone’s character just viewing his

ظاھری حالت سے باطنی حالت کا اندازہ نہیں کرناچاہئیے
حضرت خواجہ حسن بصریؒ نےایک دن دریاے دجلہ کے کنارے ایک حبشی کو دیکھا جو ایک عورت  کے ساتھ اس طرح بیٹھا تھا کہ سامنے شراب کی بوتل پڑی ہوئی تھی اور وہ اس میں سے انڈیل کر خود بھی پی رہا تھا اور اس عورت کو بھی پلا رہا تھا۔ خواجہ حسنؒ نے اس کے فعل کو ناپسند کیا اور اس کی طرف ملامت بھری نظروں سے دیکھا اتنے میں مسافروں اور سامان سے لدی ہوئی ایک کشتی وہاں سے گزری جو کچھ آگے جا کر منجدھار میں پھنس گئی اور الٹ گئی۔اس کشتی کے چار مسافر پانی میں جا پڑے اور غوطے کھانے لگے ۔ وہ حبشی فوراً دریا میں کود پڑا اور ان آدمیوں کو پانی سے نکال لایا ۔ پھر وہ آپ کی طرف مخاطب ہو کر کہنے لگا آپ مجھے پر ملامت آمیز نظر سے دیکھتے ہیں ، لیکن میں نے جان جوکھوں میں ڈال کر ان آدمیوں کو غرق ہونے سے بچا لیا ہے، آپ کسی ایک کو ہی بچا لیتے ۔ خواجہ حسنؒ اس کی بات سن کر بہت حیران ہوئے پھر اس نے کہا اے مسلمانوں کے امام اس بوتل میں شراب نہیں پانی ہے، اور یہ عورت میری ماں ہے۔ تم کسی کے ظاہر سے اس کی باطنی حالت کا اندازہ کیسے کر سکتے ہو ۔ خواجہ حسن بصریؒ نے اس حبشی سے معافی مانگی اور اس دن کے بعد انہوں نے دوبارہ کسی کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھا.
One day Hazrat Hassan Basri had seen a negro on the bank of the river Dajlah who was sitting along with a woman that bottle of wine placed in front of him, and he was making drinks for himself as well as for that woman too. Khwaja Hassan did not like his action and saw him with hatred. Meanwhile a boat filled with passengers passed from them and got trapped in a whirlpool. Four of the boats passengers fell in water and started drowning. That negro immediately jumped into the river and brought men out of water. Then he addresses to Hazrat Hassan that you saw me with hatred, but I saved these men on the risk of my life. You could not even save a single one. Khwaja Hassan was surprised to hear. Then he said O ____ that bottle contains water not wine, and that woman is my mother. How could you judge someone? Khwaja Hasan Basri apologized to the negro and never ever looked down upon anyone.

No comments:

Post a Comment